8 اکتوبر 2011 - 16:07

علامہ سید ساجد علی نقوی کے مرکزی ترجمان نے گذشتہ دنوں سابق آئی جی پولیس بلوچستان کے ایک مضمون کی جانب حکومت اور ریاست کے ذمہ داران کی توجہ دلاتے ہوئے تقاضا کیا کہ کراچی کی طرح کوئٹہ کے سانحات پر بھی سپریم کورٹ آف پاکستان اسی قسم کا اقدام کرکے وہاں کے معصوم اور بے گناہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے.

ابنا: علامہ سید ساجد علی نقوی کے مرکزی ترجمان نے گذشتہ دنوں سابق آئی جی پولیس بلوچستان کے ایک مضمون کی جانب حکومت اور ریاست کے ذمہ داران کی توجہ دلاتے ہوئے تقاضا کیا کہ کراچی کی طرح کوئٹہ کے سانحات پر بھی سپریم کورٹ آف پاکستان اسی قسم کا اقدام کرکے وہاں کے معصوم اور بے گناہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے اور انہیں شدید احساس عدم تحفظ سے نجات دلاکر امن و سکون فراہم کرے وگرنہ تسلسل کے ساتھ قتل و غارتگری' ٹارگٹ کلنگز اور تشدد کا یہ سلسلہ تباہی و بربادی اور خانہ جنگی پر منتج ہوسکتا ہے
ترجمان کے مطابق سابق آئی جی بلوچستان کا اپنے مضمون میں مستونگ کے قریب قبو میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں اور فراری کیمپوں کا حوالہ صوبائی انتظامیہ کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے جو اختر آباد' مستونگ اور کوئٹہ کے دیگر سانحات کے مرتکب قاتل آج تک نہیں ڈھونڈ سکی
مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ سابق انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان نے کوئٹہ میں بڑے واضح اور دوٹوک انداز میں سنگین اور گھمبیر صورت حال کی عکاسی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت بلوچستان میں جو چیز سب سے زیادہ نقصان سے دوچار ہورہی ہے وہ قانون کی حکمرانی اور ریاست کی رٹ ہے جس کا سب سے اہم پوائنٹ مسلمہ دہشت گرد گروہ کی جانب سے شیعہ عوام کی ٹارگٹ کلنگ ہے مگر ریاست و حکومت کے ذمہ داران ان دہشت گردوں اور قاتلوں کے خلاف کوئی کاروائی یا اقدام کرنے کی بجائے اندھیروں میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں.
 ...........

/169